جمعہ 29 مئی 2026 - 20:37
اگر غدیری رہنا ہے تو کربلا والوں کی طرح موت کی طرف خوشی خوشی جانا سیکھنا ہو گا

حوزہ / علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے خطبہ جمعہ میں خطاب کے دوران کہا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نعمت کے بارے میں سوال کرے گا اور وہ نعمت امامت و ولایت ہے۔ ہمیں اس نعمت کا صحیح استعمال کرنا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے جامع مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس کراچی میں 12 ذی الحجہ 1447ھ (29 مئی 2026ء) کو منعقدہ خطبہ جمعہ سے خطاب میں عید غدیر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: مسلمانوں نے اس عظیم عید کے ساتھ بے توجہی کی ہے جبکہ یہ اہل بیت علیہم السلام کی سب سے بڑی عید ہے۔

انہوں نے کہا: اگر مسلمان ابتداء سے عید غدیر کو اس طرح مناتے جس طرح اس کا حق ہے تو آج کوئی ختم نبوت کا انکار کرنے والا نہ ہوتا۔

خطیب محترم نے سورہ مائدہ کی آیت نمبر 67 "يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ۝۰ۭ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ۝۰ۭ وَاللہُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ" کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیں، ورنہ گویا آپ نے کچھ بھی نہیں پہنچایا۔ اب 18 ذی الحجہ کو مقام غدیر خم پر جہاں گرمی شدید تھی، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کے پالانوں سے منبر بنوا کر خطبہ دیا۔ اس خطبہ کے بعد آپ نے فرمایا: "من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ" جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں۔ اس کے بعد آپ نے دعا کی: "اللہم وال من والاہ و عاد من عاداہ و انصر من نصرہ و اخذل من خذلہ"

انہوں نے کہا: اس اعلان کے بعد آیت نازل ہوئی: "الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا"۔ اس آیت کے نزول کے بعد دین کامل ہوا، نعمتیں پوری ہوئیں اور اللہ نے اسلام کو بطور دین قبول کر لیا۔

علامہ شبیر میثمی نے کہا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نعمت کے بارے میں سوال کرے گا اور وہ نعمت امامت و ولایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس نعمت کا صحیح استعمال کرنا ہے۔

انہوں نے کہا: اگر غدیری رہنا ہے تو کربلا والوں کی طرح موت کی طرف خوشی خوشی جانا سیکھنا ہو گا۔ آج پوری دنیا میں ثابت ہو گیا ہے کہ جو 12 اماموں کو مانتا ہے وہی کامیاب ہے۔

خطیب جمعہ نے کہا: جب تم زمانے کے امام سے منسلک رہتے ہو تو امریکہ ذلیل ہوتا ہے، اسرائیل خوار ہوتا ہے۔ اب ٹرمپ تڑپ رہا ہے اور معاہدے کے لئے راستہ تلاش کر رہا ہے۔

انہوں نے پاکستان میں دہشتگردی کی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: فوجی، سویلین، ریلوے اور پولیس کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ راستہ ڈھونڈیں تاکہ پاکستان امن کا گہوارہ بن سکے۔

خطیب محترم نے امام علی علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا کہ جب کوئی سائل آیا تو آپ علیہ السلام نے اسے پردے کے پیچھے سے صدقہ دیا تاکہ سائل کی عزت مجروح نہ ہو۔

انہوں نے قرآن کی آیت "من ذا الذی یقرض اللہ قرضاً حسناً" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: جو اللہ کو قرض حسنہ دے گا اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس کرے گا۔ انہوں نے لوگوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ترغیب دی۔

آخر میں خطیب نے ملک و ملت کی سلامتی، مریضوں کی صحت اور نظام اسلامی کی کامیابی کے لئے دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha